بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایم آئی ٹی (MIT) یونیورسٹی میں طبیعیات کے ممتاز امریکی پروفیسر اور بیلسٹک میزائلوں کے ماہر تھیوڈور پوسٹول (Theodore Postol)، نے ریٹائرڈ امریکی فوجی کرنل ڈینیئل ڈیوس کے ساتھ ایک مفصل انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کی دستیاب ویڈیوز اور آزاد تکنیکی تجزیوں کی بنیاد پر، ایرانی میزائلوں کے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی شرح 95 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ پیٹریاٹ پیک-3 جیسے نظامات کی حقیقی کامیابی کی شرح ممکنہ طور پر تقریباً 2 سے 3 فیصد کے لگ بھگ ہے، نہ کہ 90 فیصد، جیسا کہ حکام دعویٰ کرتے ہیں۔

پوسٹول نے حملوں کی نشر شدہ ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کامیاب انٹرسیپشن کے لئے ایک واضح معیار پیش کیا اور کہا: فضا میں بڑا اور مستحکم دھماکہ جس کے بعد میزائل کا وارہیڈ زمین کی طرف اپنا راستہ جاری نہ رکھ پائے۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ بہت سے معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ اٹنرسیپٹر کے دھماکے کے بعد، میزائل کی اصل باڈی ہدف کی طرف اپنی حرکت جاری رکھتا ہے اور زمینی سطح پر دھماکے کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنا دیتا ہے ـ جو انٹرسیپشن کی مکمل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔
انھوں نے تصویری ڈیٹا اور سرکاری اعدادوشمار کے درمیان اس واضح فرق کو شفافیت کی کمی اور غیر حقیقی رپورٹنگ کی علامت قرار دیا۔
پوسٹول نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے 1991ع میں عراق پر امریکی حملے (خلیج جنگ) کے تجربے کا حوالہ دیا، جہاں امریکی فوج نے عراق کے 96 فیصد اسکاڈ میزائلوں کو کامیابی سے روکنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن بعد میں ان کے اور جارج لیوس کے اپنے تکنیکی جائزوں اور امریکن فزکس سوسائٹی کے آزاد جائزے نے ثابت کیا کہ یہ نظام اسکاڈ کے وارہیڈز کو تباہ کرنے میں بھی کامیاب نہیں تھا۔
انھوں نے خبردار کیا کہ یہ بار بار کا نمونہ منافع خور اسلحہ ساز کمپنیوں کے دباؤ اور فوجی اور انٹیلیجنس اداروں کی جانب سے غیر مصدقہ ڈیٹا کی تیاری کی وجہ سے ہے، جو اسٹراٹیجک غلطی، بجٹ کی غلط تقسیم اور دفاعی تحفظ کی حقیقی سطح کے بارے میں خطرناک تاثر کا باعث بنتا ہے۔
تکنیکی نقطہ نظر سے، پوسٹول نے وضاحت کی کہ پیٹریاٹ پیک-2 نظام کے میزائل ہدف کے قریب پھٹتے ہیں اور ٹکڑے پھیلا کر کام کرتا ہے، جو تیزرفتار بیلسٹک وارہیڈز کے خلاف صرف میزائل کی باڈی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور وارہیڈ ہدف کی طرف اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔
پوسٹول کہتے ہیں: نیا ورژن پیک-3، جو "براہ راست تصادم" کے طریقہ کار کی بنیاد پر ڈیزائن کیا گیا ہے، وارہیڈ کے سرے سے، کمزور ریڈار انعکاس، اور زیادہ تصادمی رفتار (جنکشنل اسپیڈ) کی وجہ سے، وارہیڈ کے مقام کی درست شناخت میں بنیادی چیلنج سے دوچار ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہی تکنیکی منطق تھاڈ نظام کے بارے میں بھی درست ہے؛ کیونکہ دونوں آنے والے میزائل روکنے کے لئے ہدف کے راستے کے درست تخمینے پر انحصار کرتے ہیں اور چال باز اور حرکت پذیر وارہیڈز، مرحلہ وار پروپیلنٹ والے یا فریب کاری کے اقدامات سے لیس وارہیڈز کے خلاف بنیادی چیلنج کا سامنا کرتے ہیں۔
پوسٹول تسلیم کرتے ہیں کہ پیٹریاٹ ہوائی جہازوں اور ڈرونز کے خلاف کسی حد تک مفید ہو سکتا ہے، لیکن ایک سے کئی ملین ڈالر کی لاگت والے انٹرسیپٹرز کا استعمال ان ڈرونز کے مقابلے میں ـ جو صرف چند دس ہزار ڈالر کی مالیت رکھتے ہیں، ـ معاشی اور عملی طور پر مکمل طور پر ناپائیدار ہے اور بڑے پیمانے پر ڈرونز حملوں کے خلاف جم نہیں سکے گا۔
انھوں نے اختتامی بیان میں اپنی اصل تنقید امریکی دفاعی ٹھیکیداروں اور اسلحہ خریداری کے عمل پر مرکوز کر دی اور خبردار کیا کہ پیٹریاٹ بنانے والی کمپنیاں، قابل تصدیق ڈیٹا جاری کئے بغیر، کئی ارب ڈالر کے معاہدوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

انھوں نے امریکی حکومت اور کانگریس سے مطالبہ کیا کہ کمپنیوں کے چارٹس اور دعوؤں پر انحصار کرنے کے بجائے، ہر بار کی انٹرسیپشن کے خام ڈیٹا کا مطالبہ کریں اور اسے آزاد تکنیکی جائزے کے ذریعے جانچ لیں۔
پوسٹول کے مطابق، اس ڈیٹا کا پوشیدہ رکھنا نہ صرف عوامی وسائل کا ضیاع ہے، بلکہ اس سے دفاعی منصوبہ بندی ایک مبالغہ آمیز تصور پر استوار ہو جاتی ہے جو ایک طرف ٹھیکیداروں کے منافع کو یقینی بناتی ہے اور دوسری طرف، امریکی قومی تحفظ کو حقیقی خطرات کے مقابلے میں شدید طور پر زیادہ زدپذیر اور کمزور بنا دیتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ